کشش ارض

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - کشش زمین، زمین کی قوت جاذبہ۔ "لوہے کے ایک ٹکڑے کو سطح زمین سے کچھ بلندی پر رکھے ہوئے سلفیورک ترشے میں ڈال دینے سے ظاہری طور پر وہ کام جو لوہے کے ٹکڑے کو کشش اِرض کے خلاف اوپر اٹھا کر انجام دیا گیا ترشے میں حل ہونے کے بعد معدوم ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔"      ( ١٩٦٩ء، حرحرکیات، ٢٢ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'کشش' بطور مضاف کے ساتھ کسرۂ اضافت لگا کر عربی زبان سے مشتق اسم 'ارض' بطور مضاف الیہ ملنے سے مرکب اضافی بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٩٦٩ء کو "حرحرکیات" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کشش زمین، زمین کی قوت جاذبہ۔ "لوہے کے ایک ٹکڑے کو سطح زمین سے کچھ بلندی پر رکھے ہوئے سلفیورک ترشے میں ڈال دینے سے ظاہری طور پر وہ کام جو لوہے کے ٹکڑے کو کشش اِرض کے خلاف اوپر اٹھا کر انجام دیا گیا ترشے میں حل ہونے کے بعد معدوم ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔"      ( ١٩٦٩ء، حرحرکیات، ٢٢ )

جنس: مؤنث